(Zarb-e-Kaleem-100) (ایک سوال) Aik Sawal

ایک سوال
کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
ہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوش

کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
مرد بے کار و زن تہی آغوش
مرد بے کار و زن تہی آغوش

Aik Sawal
Koi Puche Hakeem-e-Yourap Se
Hind-o-Yunan Hain Jis Ke Halqa Bagosh

Kya Yehi Hai Maasharat Ka Kamal
Mard Bekaar-o-Zan Tehi Aagosh !

A QUESTION:

Ask the wise men of Europe, who have hung

Their ring in the nose of Greece and Hindustan:

Is this their civilization’s highest rung—

A childless woman and a jobless man?


A QUESTION:

Let someone ask this question from the wise of West, whom Greece and India, as their guide and master hold:

Is it the highest social mode by them evolved, the males unemployed, fair sex to procreation cold?

(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

ایک سوال
(دوسری)

اس نظم میں اقبال نے یورپ کے معاشرتی نظام پر تنقید کی ہے. کہ یوں تو حکمائے یورپ نے سائنس اور فلسفہ میں بڑی ترقی کی ہے. چنانچہ مشرق اور مغرب کے لوگ ان کے خیالات کی تقلید کر رہے ہیں. لیکن ان کی حکمت نے نبی آدم کو زندگی بسر کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا اور معاشرت کا صحیح نظام قائم نہیں کیا. اور اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے. کہ مرد تو بیکاری میں مبتلا ہیں اور عورتوں میں ضبظ تولید کا میلان پایا جاتا ہے. یعنی وہ بچے پیدا کرنے سے گھبراتی ہیں کیونکہ وہ ان کی پرورش کو اپنے لیے وبال جان سمجھتی ہیں.

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: