(Zarb-e-Kaleem-102) (خلوت) Khalwat

خلوت
رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ، آئنہ دل ہے مکدر
مکدر: میلا۔

بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر
پراگندہ و ابتر: پریشان اور منتشر۔

آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر
قطرہ نيساں: موسم بہار کی بارش کا قطرہ۔

خلوت میں خودی ہوتی ہے خودگیر، و لیکن
خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر



Khalwat
Ruswa Kiya Iss Dour Ko Jalwat Ki Hawas Ne
Roshan Hai Nigah, Aaeena-e-Dil Hai Mukaddar
(Mukaddar = Maila, Gadla)

Barh Jata Hai Zauq-e-Nazar Apni Hadon Se
Ho Jate Hain Afkar Paraganda-o-Abtar

Aghosh-e-Sadaf Jis Ke Naseebon Mein Nahin Hai
Woh Qatra-e-Neesan Kabhi Banta Nahin Gohar

Khalwat Mein Khudi Hai Khudgeer, Walekin
Khalwat Nahin Ab Dair-o-Haram Mein Bhi Muyassar


Solitude

Much greed for show and fame has put this age to shame:
The glance is bright and clear, Heartʹs mirror, but is blear.

When zeal and zest for sight exceed their greatest height,
Thoughts soar to highest point and soon are out of joint.

That vernal drop of rain the state of pearl canʹt gain
If destined not to dwell, In lap of mother shell.

Retreat is blessed state ʹBout self gives knowledge great:
Alas! this state divine, Isnʹt found in fane or shrine.


SOLITUDE

Much greed for show and fame has put this age to shame: The glance is bright and clear, heart’s mirror, but is blear.
When zeal and zest for sight exceed their greatest height, thoughts soar to highest point and soon are out of joint.
That vernal drop of rain the state of pearl can’t gain, if destined not to dwell, in lap of mother shell.
Retreat is blessed state ’bout Self gives knowledge-great Alas! This state divine, isn’t found in fane or shrine.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

 

 

خلوت
(دوسری)
اس نظم میں اقبال نے خلوت (پردہ) کے فوائد بیان کئے ہیں. کہ اس دور کے لوگوں میں اپنی نمودونمائش کا جذبہ حد سے بڑھ گیا ہے جس کو دیکھو اس دھن میں ہے. کہ کسی طرح مجھے شہرت نصیب ہو جائے اس کا نتیجہ یہ نکلا کے لوگوں کا چہرہ یعنی ظاہر تو بہت روشن اور خوبصورت ہے لیکن دل یعنی باطن بہت تاریک ہے. 
یاد رکھو! جب نظارہ کرنے کا شوق حد سے بڑھ جاتا ہے. تو آدمی کے حیالات پر اگندہ اور ابتر ہو جاتے ہیں. کیونکہ وہ ہر وقت نئے نئے مناظر دیکھنے کی آرزو میں لگا رہتا ہے. کبھی کہتا ہے فلاں باغ میں چلو! کبھی سوچتا ہے فلاں کلب میں جاکر بیٹھوں. کبھی سینما کا طواف کرتا ہے. کبھی ہوٹلوں میں رات بسر کرتا ہے.
یاد رکھو! وہی قطرہ آب نیساں، گوہر بنتا ہے جو صدف کے آغوش میں پنہاں کرنا ہو جاتا ہے. یعنی جب اس قطرہ کو خلوت نصیب ہوتی ہے. (جب وہ پردہ کرلیتا ہے) تو وہ موتی بن جاتا ہے. اسی طرح خودی، خلوت میں مستحکم ہوتی ہے. یعنی جو آدمی اپنی خودی کی تربیت کرنی چاہتا ہے. اسے نمود ونمائش کا جذبہ دل سے نکال دینا چاہیئے. اور….. گھنٹے میں کچھ وقت خلوت کے لیے بھی مخصوص کرنا چاہیے تاکہ وہ محاسبہ نفس کر سکے اور تنہائی میں اپنی زندگی پر غور کرسکے کہ کس نہج پر  بسر ہو رہی ہے. 
چنانچہ دنیا میں جس قدر بڑے آدمی گزرے ہیں خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سب خلوت پسند تھے. لیکن اقبال افسوس کرتے ہیں کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ اس میں دیر و حرم میں جو خلوت میسر نہیں آسکتی، عورتیں اور مرد دونوں اپنے جسموں کی نمائش میں منہمک ہیں. بس لیے وہ اپنی روح سے یعنی اس کی تربیت سے غافل ہیں.

 

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: