(Zarb-e-Kaleem-026) (سلطانی) Sultani

سلطانی

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی

خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
اہری: غلبہ، فاتحانہ شان۔
یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
ظل سبحانی: خدا کا سایہ۔
عیار: کسوٹی۔
یہ جبر و قہر نہیں ہے، یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی

ہوا حریف مہ و آفتاب تو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی

از: ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ


English Translation:
سلطانی


کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی

KINGSHIP
The lofty states of faqr are known to few, the faqr that brings the soul of Koran to view.
خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی
اہری: غلبہ، فاتحانہ شان۔
When selfhood sees its sway and upper hand, this exalted state the folk as kingship brand.
یہی مقام ہے مومن کی قوتوں کا عیار
اسی مقام سے آدم ہے ظل سبحانی
ظل سبحانی: خدا کا سایہ۔
عیار: کسوٹی۔
This rank gives verdict of a Muslim’s worth, and makes him vicegerent of God on earth.
یہ جبر و قہر نہیں ہے، یہ عشق و مستی ہے
کہ جبر و قہر سے ممکن نہیں جہاں بانی

This is not mere power and authority; this is Love; as kingship is not possible with power and authority alone.
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

You have got bondage as a fit reward, for you have failed to keep on Faqr a guard.
مثال ماہ چمکتا تھا جس کا داغ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی

Prostration made like moon his forehead shine, Alas! The Franks have snatched that essence fine.
ہوا حریف مہ و آفتاب تو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی

Your stars have lost their pristine glow and sheen that made them rivals of Sun and Moon so keen.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)


Roman urdu:
Sultani

Riyaz Manzil (Doulat Kuda-e-Sir Raas Masood) Bhopal Mein Likhe Gye

Kise Khabar Ke Hazaron Maqam Rakhta Hai
Woh Faqr Jis Mein Hai Be-Parda Rooh-e-Qurani

Khudi Ko Jab Nazar Ati Hai Qahari Apni
Yehi Maqam Hai Kehte Hain Jis Ko Sultani

Yehi Maqam Hai Momin Ki Quwwaton Ka Ayar
Issi Maqam Se Adam Hai Zil-e-Subhani

Ye Jabr-e-Qehr Nahin, Ye Ishq-o-Masti Hai
Ke Jabr-o-Qehr Se Mumkin Nahin Jahan Baani

Kiya Gya Ha Ghulami Mein Mubtala Tujh Ko
Ke Tujh Se Ho Saki Faqr Ki Nighebani


Misal-e-Mah Chamakta Tha Jis Ko Dagh-e-Sujood
Khareed Li Hai Farangi Ne Woh Musalmani

Huwa Hareef-e-Mah-o-Aftab Tu Jis Se
Rahi Na Tere Sitaron Mein Woh Durkhashani

Dr. Allama Muhammad Iqbal r.a


سلطانی

یہ نظم بلندی افکار اور عمق معنی کے لحاظ سے ضرب کلیم کی بہترین نظموں میں سے ہے. اس نظم میں اقبال نے سلطانی (بادشاہت) کا حقیقی مفہوم سمجھایا ہے. یوں سمجھو کہ سلطانی کی دو قسمیں ہیں ایک نقلی یا مجازی دوسری اصلی یا حقیقی فرماتے ہیں۔ کہ
وہ فقر جو قرآن حکیم کی روح کو اپنی زندگی میں داخل کرنے سے پیدا ہوتا ہے ہزاروں مقام رکھتا ہے.

چنانچہ جب مسلمان اپنے اندر شان فقر پیدا کر لیتا ہے. تو خودی اپنی مخفی قوتوں سے آگاہ ہو جاتی ہے. یعنی اس وقت مومن کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجھ میں کس قدر زبردست طاقتیں موجود ہیں تو جب خودی اپنی شان قاہری سے آگاہ ہوتی ہے تو اسی مقام یا اس وقوف کو “سلطانی” کہتے ہیں

غرض سلطانی کی اصل حقیقت  وقوف یا شعور ہے. نہ کہ تخت و تاج یعنی اس وقت مومن کو اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ دراصل سلطان میں ہوں. نہ کے وہ سلاطین جو تخت پر جلوہ گر ہیں. اس وقت وہ ان نقلی سلاطین کو ایسی ہی حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے. جیسے یہ دنیاوی سلاطین اپنے امیروں کو دیکھتے ہیں.

اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب پانی پت کے گورنر کے جوابدار نے حضرت بو علی قلندر پانی پتی کے ایک مرید کو مارا اور وہ حضرت کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہوا، تو حضرت نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ دہلی کے بادشاہ کو میری طرف سے خط لکھ دوں کہ اگر تو نے اس بد طنیت عامل (گورنر) کو پانی پت سے فورا دوسری جگہ تبدیل نہیں کیا تو میں دہلی کے تخت کو کسی دوسرے بادشاہ کے حوالے کردوں گا.

بازگیرایں عامل بدگوہرے
ورنہ بخشم ملکِ تو بادیگرے
(اقبال نے اس شعر میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے)

غور کیجئے.، حضرت قلندر پانی پتی محض ایک گدائے گوشہ نشیں تھے نہ ان کے پاس فوج تھی نہ خزانہ. لیکن اس کے باوجود ان میں اس قدر طاقت تھی کے انہوں نے ہندوستان کے متعلق العنان بادشاہ کو ایسا سخت خط لکھ دیا. سوال یہ ہے کہ ان میں یہ طاقت اور یہ شوکت کیسے پیدا ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ

خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سلطانی

یہی مقام یعنی شان فقر جسے حقیقی معنی میں سلطانی کہہ سکتے ہیں، مومن کی قوتوں کی کسوٹی ہے. مومن اپنی قوتوں کو اس سلطانی کی کسوٹی پر پرکھتا ہے. اور اسی مقام پر پہنچ کر وہ حقیقی معنی میں خلیفتہ اللہ علی الارض بن جاتا ہے بظاہر چٹائی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے. لیکن دراصل ساری دنیا پر حکومت کرتا ہے. اور ساری دنیا اس ایک فقیر سے کانپتی ہوہتی ہے.

واضح ہو کہ یہ سلطانی اپنے اندر ، جبروقہر ظلم و ستم، کا رنگ نہیں رکھتی بلکہ عشق و مستی کا رنگ رکھتی. بالفاظ دگر، دنیاوی سلاطین تو صرف لوگوں کے جسم پر حکومت کرتے ہیں. لیکن مومن (صاحب فقر) لوگوں کے دلوں پر حکمراں ہوتے ہے. دنیاوی سلاطین تو تلوار کے زور سے حکومت کرتے ہیں.  لیکن مومن محبت کی مدد سے حکومت کرتا ہے. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جبر و قہر سے جہانبانی ممکن نہیں ہے تاریخ گواہ ہے کہ، جن بادشاہوں نے جبر و قہر سے حکومت کی ہے. ان کا انجام نہایت برا ہوا ہے یہ شعر اس نظم کی جان ہے کہتے ہیں کہ؛ ۔تجھ کو (مسلمان قوم سے خطاب ہے) جو غلامی میں مبتلا کیا گیا ہے اس کا سبب یہی تو ہے کہ اللہ نے تجھے حقیقت سلطانی عطا فرمائی تھی یعنی سرکار دوعالم صلی اللہ وسلم نے تجھے فقر کا سبق پڑھایا تھا، لیکن تونے وہ سبق بالکل بھلا دیا. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھلا دینے کے معنی یہ ہیں کہ تو نے اللہ کو بھلا دیا. پس اس نے اپنے قانون کے مطابق تجھے بھلا دیا.

افسوس کے چند روزہ زندگی کو عیش و آرام سے بسر کرنے کی خاطر فرنگی کی غلامی قبول کرلی ہے.

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیری قوم کے (ستاروں) افراد کی عزت خاک میں مل گئی. اور وہ تمام دنیا کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو گئی.

کاش! پاکستان کے مسلمان اپنے اندر شان فقر پیدا کرلیں تو پھر سب آزاد ہو جائیں.

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: