(Zarb-e-Kaleem-030) (ہندی اسلام) Hindi Islam

ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

وحدت افکار: خیالات کی یگانگت ۔
الحاد: کفر، بے دینی۔
الہام: خدا کا پیغام۔

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد

اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

نوميدي جاويد: ہمیشہ کی ناامیدی۔

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

علامہ محمد اقبال ؒ

نظم کی تشریح: ہندی اسلام

اس سے پہلے اقبال نے” ہندی مسلمان” کی حالت پر تبصرہ کیا ہے۔ اس نظم میں انہوں نے “ہندی اسلام” کا نقشہ کھینچا ہے۔

جس طرح فرد کی زندگی خوردنوش پر مخصر ہے، اسی طرح قوم کی زندگی وحدت افکار ایک جیسی فکر اور سوچ و مقصد پر موقوف ہے۔ یعنی قوم اس وقت ترقی کرسکتی ہے، اور حقیقی معنی میں اس لفظ قوم کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جب اس کے تمام افراد ہم حیال ہو جائیں۔ ہم خیال کے بھی دلوں معنی ہیں، ایک تو یہ کہ عقائد کے لحاظ سے افراد میں افقراق نہ ہو۔ سب لوگ یکسوں عقائد کے پابند ہوں، دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کے سامنے نصب العین بھی ایک ہی ہو اس صورت میں قوم کے تمام افراد ایک ہی طریقہ پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ اسی کو وحدت افکار کہتے ہیں۔
یہ وحدت افکار اس قدر ضروری چیز ہے کہ اگر قوم کے کسی فرد کو، ایسا الہام ہو، جس سے یہ وحدت فنا ہوتی ہو تو وہ الہام بھی مفید نہیں، بلکہ قوم کے حق میں خالص الحاد ہے۔
واضح ہو کہ، وحدت کی حفاظت حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے یعنی قوم کے پاس طاقت ہونی لازمی ہے کہ اگر کوئی فرد اس وحدت کو فنا کرنے کی کوشش کرے تو قوم، طاقت سے کام لے کر اس شخص کو اصلاح کر سکے۔ یعنی پہلے اسے سمجھائے اور اگر وہ راہ راست پر نہ آئے تو پھر اسے قرار واقعی سزا دے سکے۔
ایسے مفسدوں کا علاج عقل خداداد سے ممکن نہیں ہے. یعنی اگر ان سے مناظرہ کیا جائے، تو وہ باز نہیں آسکتے۔ ان کا علاج صرف ایک ہی ہے. کہ طاقت سے کام لے کر ان کا خاتمہ کردیا جائے۔ کیونکہ جس طرح پورے جسم کی بقا کے لیے ڈاکٹر، ایک انگلی کاٹ دیتا ہے۔ اور ہر شخص اس کے اس فعل کو اچھا سمجھتا ہے۔ اسی طرح پوری قوم کی بقاء کے لیے ایک شخص کو قتل یا محبوس کر دینا بالکل جائز ہے۔ اے مسلمان! اگر تجھ میں یہ قوت نہیں کہ تو بزور شمشیر اپنی قوم کی وحدت بر قرار رکھ سکے تو پھر اس کے سوا اور صورت ہی کیا ہے کہ تو کسی غار میں بیٹھ کر اللہ اللہ کیا کرے۔
یا پھر ایسا نیا اسلام ایجاد کر جس میں تصرف رہنے سہنے کا طریقہ تجھے مسکینی، غلامی اور دائمی (ہمیشہ) کی مایوسی کی تلقین کریں۔

مسلمان کو ہندوستان میں جو نماز پڑھنے کی اجازت ہے تو وہ نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام آزاد ہے حالانکہ اسلام ایک مستقل نظام زندگی کا نام ہے۔ اور نماز اس نظام کا صرف ایک جز ہے حقیقت حال یہ ہے کہ انگریز نے مسلمان کو قدرے آزادی دے دی ہے کہ کلب میں جاسکتا ہے، سینما دیکھ سکتا ہے، گھوڑ دوڑ میں جوا کھیل سکتا ہے ہوٹل میں شراب پی سکتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اسلام کو پوری طرح محبوس کر رکھا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اسلامی زندگی بسر کرنا چاہے مثلا سود سے پاک کاروبار کرنا چاہے ہے یا شریعت کے تقاضوں پر عدالتی نظام قائم کرنا چاہے وغیرہ تو اس کی سزا اسے فورا ملے گی۔ ایک دن بھی اس کو آزاد نہیں چھوڑا جائے گا۔ کیونکہ انگریز کی نگاہ میں اسلامی زندگی بسر کرنے سے امن عامہ میں خلل عظیم واقع ہوتا ہے۔ اور اسی فتنہ اس کی روک تھام کیلئے “سیفٹی ایکٹ” ایجاد کیا گیا تھا۔

English Translation: INDIAN ISLAM

ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

Oneness of thought and Faith alone can make a Society last for long: That revelation is schism indeed that fails to make this bond much strong.

وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خدا داد

Oneness of thought and Faith can be defended with arms robust and strong. The wit that God bestows on man does not befriend a man for long.

اے مرد خدا! تجھ کو وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

O man of God, you lack such strength, go seek retreat in cave forlorn; arid sit there like a hermit old, worship Almighty Lord night and morn.

مسکینی و محکومی و نومیدی جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

Devise such faith whose mystic thought may have mien meek and slavish trend. And side by side there may persist despair that has no bound and end.

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

The leave allowed to Muslim Priest to bow and bend, ‘fore God to pray makes that artless fellow think that Ind is free from foreign sway.

[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

Roman Urdu: Hindi Islam

Hai Zinda Faqt Wahdat-e-Afkar Se Millat
Wahdat Ho Fana Jis Se Woh Ilhaam Bhi Ilhaad

Wahdat Ki Hifazat Nahin Be-Quwwat-e-Bazoo
Aati Nahin Kuch Kaam Yahan Aqal-e-Khudadad

Ae Mard-e-Khuda! Yujh Ko Woh Quwwat Nahin Hasil
Ja Baith Kisi Ghaar Mein Allah Ko Kar Yaad

Miskeeni-o-Mehkoomi-o-Naumeedi-E-Javed
Jis Ka Ye Tasawwuf Ho Woh Islam Kar Ijad

Mullah Ko Jo Hai Hind Mein Sajde Ki Ijazat
Nadan Ye Samajhta Hai Ke Islam Hai Azad!

Dr. Allama Muhammad Iqbal r.a

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: