(Zarb-e-Kaleem-123) (سرود) Surood

سرود

آیا کہاں سے نالہ نے میں سرود مے
اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوب نے

چوب نے: لکڑی جس سے بانسری بنتی ہے۔

دل کیا ہے، اس کی مستی و قوت کہاں سے ہے
کیوں اس کی اک نگاہ الٹتی ہے تخت کے

کیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام میں حیات
کیوں اس کے واردات بدلتے ہیں پے بہ پے

کیا بات ہے کہ صاحب دل کی نگاہ میں
جچتی نہیں ہے سلطنت روم و شام و رے

جس روز دل کی رمز مغنی سمجھ گیا
سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے

مغني: نغمہ گانے والا۔


اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ صرف وہ نغمہ حلال ہے جو دل کو بیدار کر دے جو دل میں محبت الہی کا جذبہ پیدا کردے. 

غورکرو کہ بانسری کی آواز میں یہ شراب کا سرور کہاں سے آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کی اصل یعنی مستی سرور کی بنیاد چوب نے یا بانسری نہیں ہے بلکہ میں نے نواز کا دل ہے.

اب اس بات پہ غور کرو کہ دل کیا چیز ہے؟ کیا وہ مصغہ گوشت کا نام ہے؟ اس میں یہ مستی اور سرور کہاں سے آیا، جو نے نواز، نے میں منتقل کر دیتا ہے؟ آخر یہ بانسری کی آواز اس قدر دلکش کیوں ہوتی ہے کہ انسان تو خیر انسان ہے، حیوان بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں؟ آخر ایک معمولی ساصاحبدل! تخت کیخرو کو کس طرح تہ بالا کر دیتا ہے؟ اور بڑے بڑے بادشاہ اس کو دیکھ کر کیوں لرزہ برامذام ہوجاتے ہیں؟ پھر یہ غور کرو کہ قوموں کی زندگی، دل کی زندگی پر کیوں منحصر ہے؟ اور اسے ایک پہلو پر قرار کیوں نہیں ہے؟ صاحب دل پر مختلف حالات کیوں طاری ہوتے رہتے ہیں؟ جو ہر وقت ہنگامہ کیوں پسند کرتا ہے؟

پھر اس پر بھی غور کرو کہ دل صاحبدل کو کیا چیز عطا کر دیتا ہے کہ اس کی نظر میں بادشاہ اور بادشاہت کسی چیز کی کوئی وقعت نہیں رہتی وہ بادشاہوں کو خاطر میں نہیں لاتا لیکن اس میں یہ سطوت کہاں سے آ جاتی ہے؟

پس معلوم ہوا کہ دل اس کائنات میں سب سے بڑی قوت محرکہ ہے اور لامحدود توانائی کا خزانہ ہے. اگر دل زندہ ہو جائے تو قومیں ہی زندہ نہیں ہو جاتیں ان کے افراد بھی معجزات دکھانے لگتے ہیں اور بعض اوقات ایک فرد پوری جماعت پر بھاری نظر آتا ہے.

پس اشد ضروری ہے کہ مغنی، نغمہ سرائی سے پہلے نغمہ کی اصل یا اسکے سرچشمہ سے آگاہی حاصل کرے یعنی دل کے اسرار ورموز سے واقف ہو جائے. اور اگر وہ اس حقیقت سے خبردار ہو جائے دل سرچشمہ حیات ہے تو پھر اس کی موسیقی، قوموں کے لئے خود پیام حیات ہوجائیگی اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہی موسیقی، بنی آدم کے حق میں پیام موت بن جائے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ بن جاتی ہے.

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: