(Bang-e-Dra-133) (ایک مکالمہ) Aik Mukalma

ایک مکالمہ

اک مرغ سرا نے یہ کہا مرغ ہوا سے
پردار اگر تو ہے تو کیا میں نہیں پردار!
مرغ ہوا: آزاد پرندہ۔
مرغ سرا: پالتو پرندہ۔
گر تو ہے ہوا گیر تو ہوں میں بھی ہوا گیر
آزاد اگر تو ہے، نہیں میں بھی گرفتار

پرواز، خصوصیت ہر صاحب پر ہے
کیوں رہتے ہیں مرغان ہوا مائل پندار؟
مائل پندار: مغرور۔
مجروح حمیت جو ہوئی مرغ ہوا کی
یوں کہنے لگا سن کے یہ گفتار دل آزار

کچھ شک نہیں پرواز میں آزاد ہے تو بھی
حد ہے تری پرواز کی لیکن سر دیوار

واقف نہیں تو ہمت مرغان ہوا سے
تو خاک نشیمن، انھیں گردوں سے سروکار

تو مرغ سرائی، خورش از خاک بجوئی
ما در صدد دانہ بہ انجم زدہ منقار

Comments are closed.

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: