(Bang-e-Dra-062) (مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے) Majnu Ne Shehar Chora Tu Sehra Bhi Chor De

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی رستہ بھی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-061) (سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں) Sakhtiyan Kerta Hun Dil Per, Ghair Se Ghafil Hun Mein

سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں سختیاں کرتا ہوں دل پر، غیر سے غافل ہوں میں ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں، جاہل ہوں میں میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں علم کے دریا سے... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-060) (کشادہ دست کرم وہ جب نے نیاز کرے) Kushada Dast-e-Karam Jab Vo Be Niaz Kare

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ! خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے احتراز: پرہیز۔ مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی جو ہوشیاری... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-059) (تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں) Tere Ishq Ki Intaha Chahta Hun

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں ستم ہو کہ ہو وعده بے حجابی کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں ذرا سا تو دل ہوں، مگر شوخ اتنا وہی لن ترانی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-058) (جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں) Jinhain Main Dhoondta Tha Asmanon Mein Zameenon Mein

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکینوں میں اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائی سے تو سنگ آستاں کعبہ جا ملتا... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-057) (کہوں کیا آرزوے  بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے) Kahun Kya Arzoo’ay Be Dili Mujh Ko Kahan Tak Hai

کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے کہوں کیا آرزوئے بے دلی مجھ کو کہاں تک ہے مرے بازار کی رونق ہی سودائے زیاں تک ہے وہ مے کش ہوں فروغ مے سے خود گلزار بن جائوں ہوائے گل فراق ساقی نامہرباں تک ہے چمن افروز ہے صیاد میری خوشنوائی تک رہی... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-056) (ظاہر کی آنکہ سے نہ تماشا کرے کوئی) Zahir Ki Ankh Se Na Tamasha Kare Koi

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدہء دل وا کرے کوئی منصور کو ہوا لب گویا پیام موت اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر ہے دیکھنا یہی کہ نہ... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-055) (انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں) Anokhi Wazaa Hai, Sare Zamane Se Nirale Hain

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں میں کانٹے، نوک سوزن سے نکالے ہیں پھلا پھولا رہے یا رب! چمن میری امیدوں... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-054) (کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا) Kya Kahun Apne Chaman Se Main Judda Kyunker Hua

کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا اور اسیر حلقہ دام ہوا کیونکر ہوا جائے حیرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں میں مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر کیا خبر ہے تجھ... Continue Reading →

(Bang-e-Dra-053) (لاؤں وہ تنکے کہاں سے آشیانے کے لئے) Laon Vo Tinke Kahin Se Ashiyane Ke Liye

لائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے لائوں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے وائے ناکامی، فلک نے تاک کر توڑا اسے میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملت سے تری ایک پیمانہ ترا... Continue Reading →

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑