(Zarb-e-Kaleem-140) (شعرعجم) Shayr-e-Ajam

شعر عجم ہے شعر عجم گرچہ طرب ناک و دل آویز اس شعر سے ہوتی نہیں شمشیر خودی تیز طرب ناک: پر سرور۔ شمشير خودي: خود آگاہی کی نظر۔ افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستاں بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحر خیز مرغ سحر خيز: صبح سویرے اٹھ کر چہچہانے والا پرندہ... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-139) (شاعر) Shayar

شاعرمشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس نے شاعر ! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہےتاثیر غلامی سے خودی جس کی ہوئی نرم اچھی نہیں اس قوم کے حق میں عجمی لےشیشے کی صراحی ہو کہ مٹی کا سبو ہو شمشیر کی مانند ہو تیزی میں تری مےایسی کوئی دنیا نہیں افلاک کے نیچے بے معرکہ ہاتھ... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-138) (فوارہ) Fawwara

فوارہ یہ آبجو کی روانی، یہ ہمکناری خاک مری نگاہ میں ناخوب ہے یہ نظارہ ادھر نہ دیکھ، ادھر دیکھ اے جوان عزیز بلند زور دروں سے ہوا ہے فوارہ زور دروں : اندر کی طاقت۔ اس مختصر نظم میں اقبال نے ایک پیش پا افتادہ مضمون سے اپنے نظریہ کی تائید کی ہے. بظاہر... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-137) (سرود حرام) Surood-e-Haraam

سرود حرام نہ میرے ذکر میں ہے صوفیوں کا سوز و سرور نہ میرا فکر ہے پیمانہ ثواب و عذاب خدا کرے کہ اسے اتفاق ہو مجھ سے فقیہ شہر کہ ہے محرم حدیث و کتاب اگر نوا میں ہے پوشیدہ موت کا پیغام حرام میری نگاہوں میں ناے و چنگ و رباب ناے: بانسری۔... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-136) (سرود حلال) Surood-e-Hilal

سرود حلال کھل تو جاتا ہے مغنی کے بم و زیر سے دل نہ رہا زندہ و پائندہ تو کیا دل کی کشود! بم و زير: اتار چڑھاؤ ۔ ہے ابھی سینہ افلاک میں پنہاں وہ نوا جس کی گرمی سے پگھل جائے ستاروں کا وجود جس کی تاثیر سے آدم ہو غم و خوف... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-135) (مصور) Musawwar

مصور کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ تخیل ہندی بھی فرنگی کا مقلد، عجمی بھی مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے کمالات صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی، نئی بھی فطرت کو دکھایا بھی ہے، دیکھا... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-134) (جلال و جمال) Jalal-o-Jamal

جلال و جمال مرے لیے ہے فقط زور حیدری کافی ترے نصیب فلاطوں کی تیزی ادراک مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی کہ سر بسجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک مجھے سزا کے لیے بھی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-133) (مرزا بیدل) Mirza Bedil

مرزا بیدل ہے حقیقت یا مری چشم غلط بیں کا فساد یہ زمیں، یہ دشت، یہ کہسار، یہ چرخ کبود چرخ کبود: نیلا آسمان۔ کوئی کہتا ہے نہیں ہے، کوئی کہتاہے کہ ہے کیا خبر، ہے یا نہیں ہے تیری دنیا کا وجود میرزا بیدل نے کس خوبی سے کھولی یہ گرہ اہل حکمت پر... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-132) (جدت) Jiddat

جدت دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے خورشید کرے کسب ضیا تیرے شرر سے ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے سيما: پیشانی، ماتھا۔ دریا متلاطم ہوں تری موج گہر سے شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی کیا... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-131) (رومی) Rumi

رومی غلط نگر ہے تری چشم نیم باز اب تک ترا وجود ترے واسطے ہے راز اب تک چشم نيم باز: آدھی کھلی آنکھ۔ ترا نیاز نہیں آشنائے ناز اب تک کہ ہے قیام سے خالی تری نماز اب تک گسستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تک کہ تو ہے نغمہ رومی سے... Continue Reading →

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑