(Zarb-e-Kaleem-130) (خاقانی) Khaqani

خاقانی وہ صاحب تحفہ العراقین ارباب نظر کا قرہ العین تحفہ العراقين: خاقانی کی مشہور مثنوی جس میں اس نے سفر حج کے حالات لکھے ہیں۔ قرہ العين: آنکھوں کی ٹھنڈک۔ ہے پردہ شگاف اس کا ادراک پردے ہیں تمام چاک در چاک خاموش ہے عالم معانی کہتا نہیں حرف 'لن ترانی لن تراني: میں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-129) (صبح چمن) Subah-e-Chaman

صبح چمن پھول شاید تو سمجھتی تھی وطن دور ہے میرا اے قاصد افلاک! نہیں، دور نہیں ہے شبنم ہوتا ہے مگر محنت پرواز سے روشن یہ نکتہ کہ گردوں سے زمیں دور نہیں ہے گردوں: آسمان۔ صبح مانند سحر صحن گلستاں میں قدم رکھ آئے تہ پا گوہر شبنم تو نہ ٹوٹے ہو کوہ... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-128) (فنون لطیفہ) Funoon-e-Latifa

فنون لطیفہ اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے یہ ایک نفس یا دو نفس مثل شرر کیا جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا اے قطرئہ نیساں وہ صدف کیا، وہ گہر کیا متلاطم: موجیں مارنے والا۔... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-127) (اقبال) Iqbal

اقبال فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش حلاج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر اک مرد قلندر نے کیا راز خودی فاش اس مختصر نظم میں, اقبال نے بڑے بلیغ انداز سے اپنے کلام پر تبصرہ بھی کیا ہے اور اپنا مقام بھی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-126) (مخلوقات ہنر) Makhlooqat-e-Hunar

مخلوقات ہنر ہے یہ فردوس نظر اہل ہنر کی تعمیر فاش ہے چشم تماشا پہ نہاں خانہ ذات نہ خودی ہے، نہ جہان سحر و شام کے دور زندگانی کی حریفانہ کشاکش سے نجات حريفانہ کشاکش: آپس میں تصادم اور کھینچا تانی۔ آہ، وہ کافر بیچارہ کہ ہیں اس کے صنم عصر رفتہ کے وہی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-125) (اہرام مصر) Ahram-e-Misar

اہرام مصر اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں فطرت نے فقط ریت کے ٹیلے کیے تعمیر اہرام کی عظمت سے نگوں سار ہیں افلاک کس ہاتھ نے کھینچی ابدےت کی یہ تصویر! فطرت کی غلامی سے کر آزاد ہنر کو صیاد ہیں مردان ہنر مند کہ نخچیر نخچير: شکار۔   اس نظم میں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-124) (نسیم شبنم) Naseem-o-Shabnam

نسیم و شبنم نسیم انجم کی فضا تک نہ ہوئی میری رسائی کرتی رہی میں پیرہن لالہ و گل چاک مجبور ہوئی جاتی ہوں میں ترک وطن پر بے ذوق ہیں بلبل کی نوا ہائے طرب ناک طرب ناک: خوشی سے بھری ہوئی ۔ دونوں سے کیا ہے تجھے تقدیر نے محرم خاک چمن اچھی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-123) (سرود) Surood

سرود آیا کہاں سے نالہ نے میں سرود مے اصل اس کی نے نواز کا دل ہے کہ چوب نے چوب نے: لکڑی جس سے بانسری بنتی ہے۔ دل کیا ہے، اس کی مستی و قوت کہاں سے ہے کیوں اس کی اک نگاہ الٹتی ہے تخت کے کیوں اس کی زندگی سے ہے اقوام... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-122) (وجود) Wujood

وجود اے کہ ہے زیر فلک مثل شرر تیری نمود کون سمجھائے تجھے کیا ہیں مقامات وجود! گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر وائے صورت گری و شاعری و ناے و سرود مکتب و مے کدہ جز درس نبودن ندہند بودن آموز کہ ہم باشی و ہم خواہی بود درسگاہوں اور مے خانوں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-121) (غزل) Ghazal

غزلدریا میں موتی، اے موج بے باک ساحل کی سوغات ! خاروخس و خاکخاروخس و خاک: کانٹے، گھاس اور مٹی۔میرے شرر میں بجلی کے جوہر لیکن نیستاں تیرا ہے نم ناکتیرا زمانہ، تاثیر تیری ناداں ! نہیں یہ تاثیر افلاکایسا جنوں بھی دیکھا ہے میں نے جس نے سیے ہیں تقدیر کے چاککامل وہی ہے رندی کے فن میں مستی... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑