(Zarb-e-Kaleem-174) (لا دین سیاست) La Deen Siasat

لادین سیاست جو بات حق ہو، وہ مجھ سے چھپی نہیں رہتی خدا نے مجھ کو دیا ہے دل خبیر و بصیر خبير و بصير : جاننے اور دیکھنے والا۔ مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لا دیں کنیز اہرمن و دوں نہاد و مردہ ضمیر دوں نہاد: کم اصل۔ کنیز اہرمن : شیطان کی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-173) (انتداب) Intadab

انتداب کہاں فرشتہ تہذیب کی ضرورت ہے نہیں زمانہ حاضر کو اس میں دشواری جہاں قمار نہیں، زن تنک لباس نہیں جہاں حرام بتاتے ہیں شغل مے خواری تنک لباس: کم لباس ، نیم عریاں۔ بدن میں گرچہ ہے اک روح ناشکیب و عمیق طریقہ اب و جد سے نہیں ہے بیزاری ناشکيب و عميق:... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-172) (گلہ) Gila

گلہ معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمیں ہے جاں بھی گرو غیر، بدن بھی گرو غیر افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے گرو غير: دوسروں کے پاس رہن... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-171) (مسولینی) Mussolini

مسولینی اپنے مشرقي اور مغربي حريفوں سے کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم! بے محل بگڑا ہے معصومان یورپ کا مزاج میں پھٹکتا ہوں تو چھلنی کو برا لگتا ہے کیوں ہیں سبھی تہذیب کے اوزار ! تو چھلنی، میں چھاج میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہو تم تم نے کیا توڑے نہیں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-170) (یورپ اور سوریا) Yorap Aur Suriya

یورپ اور سوریا فرنگیوں کو عطا خاک سوریا نے کیا نبی عفت و غم خواری و کم آزاری صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے مے و قمار و ہجوم زنان بازاری سوريا: ملک شام ، جس میں موجودہ لبنان ، اسرائیل، فلسطین اور مشرقی اردن شامل تھے۔   اس نظم میں اقبال نے... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-169) (جمہوریت) Jumhooriat

جمہوریت اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے اس نظم میں اقبال نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگرچہ آج کل دنیا میں ہرشخص جمہوریت کا ثناخواں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-168) (سلطانی جاوید) Sultani-e-Javed

سلطانی جاوید غواص تو فطرت نے بنایا ہے مجھے بھی لیکن مجھے اعماق سیاست سے ہے پرہیز اعماق: گہرائیاں ۔ غواص: غور و خوض۔ فطرت کو گوارا نہیں سلطانی جاوید ہر چند کہ یہ شعبدہ بازی ہے دل آویز فرہاد کی خارا شکنی زندہ ہے اب تک باقی نہیں دنیا میں ملوکیت پرویز خارا شکني:... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-167) (جمیعت اقوام مشرق) Jamiat-e-Aqwam-e-Mashriq

جمعیت اقوام مشرق پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر کیا ہو جو نگاہ فلک پیر بدل جائے مسخر: تسخیر کیا گیا۔ دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے طہران ہو گر عالم مشرق کا جینوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے اقبال نے... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-166) (ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزوندوں کے نام) Ablees Ka Farman Apne Siasi Farzondon Ke Naam

ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں زناریوں کو دیر کہن سے نکال دو دير کہن: پرانی عبادت گاہ۔ وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمد اس کے بدن سے نکال دو فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات اسلام کو حجاز... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-165) (ابی سینیا) Abyssinia

ابی سینیا یورپ کے کرگسوں کو نہیں ہے ابھی خبر ہے کتنی زہر ناک ابی سینیا کی لاش ہونے کو ہے یہ مردہ دیرینہ قاش قاش! قاش قاش: ٹکڑے ٹکڑے۔ کرگسوں: گدھوں۔ تہذیب کا کمال شرافت کا ہے زوال غارت گری جہاں میں ہے اقوام کی معاش ہر گرگ کو ہے برہ معصوم کی تلاش!... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑