(Zarb-e-Kaleem-164) (اہل مصر) Ahle Misar Se

اہل مصر سے خود ابوالہول نے یہ نکتہ سکھایا مجھ کو وہ ابوالہول کہ ہے صاحب اسرار قدیم ابوالہول: مصر میں احرام کے پاس ایک بہت بڑا بت ہے جو ایک چٹان کو تراش کر تیار کیا گیا ہے؛ اس کا دھڑ شیر کا ہے اور چہرہ انسان کا۔ دفعتہً جس سے بدل جاتی ہے... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-163) (غلاموں کے لئے) Ghulamon Ke Liye

غلاموں کے لیے حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنا پر تعمیر حرف اس قوم کا بے سوز، عمل زار و زبوں ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر زار... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-162) (خواجگی) Khawajgi

خواجگی دور حاضر ہے حقیقت میں وہی عہد قدیم اہل سجادہ ہیں یا اہل سیاست ہیں امام اس میں پیری کی کرامت ہے نہ میری کا ہے زور سینکڑوں صدیوں سے خوگر ہیں غلامی کے عوام خوگر: عادی۔ خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام اس... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-161) (سیاست افرنگ) Siasat-e-Afrang

سیاست افرنگ تری حریف ہے یارب سیاست افرنگ مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تو نے بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس   اس چھوٹی سی نظم میں اقبال نے ہمیں بڑے دلپذیر انداز میں یہ بتایا ہے کہ فرنگی سیاست سراسر شیطانی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-160) (مشرق) Mashriq

مشرق مری نوا سے گریبان لالہ چاک ہوا نسیم صبح، چمن کی تلاش میں ہے ابھی نہ مصطفی نہ رضا شاہ میں نمود اس کی کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی مری خودی بھی سزا کی ہے مستحق لیکن زمانہ دارو رسن کی تلاش میں ہے ابھی   اس نظم میں اقبال... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-159) (آج اور کل) Aaj Aur Kal

آج اور کل وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا جو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے لائق ہنگامہ فردا: مستقبل کے ہنگاموں کے لائق۔   اس چھوٹی سی نظم میں اقبال نے حال اور... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-158) (بلشویک روس) Bolshevik Roos

بلشویک روس روش قضائے الہی کی ہے عجیب و غریب خبر نہیں کہ ضمیر جہاں میں ہے کیا بات ہوئے ہیں کسر چلیپا کے واسطے مامور وہی کہ حفظ چلیپا کو جانتے تھے نجات چليپا: صلیب۔ کسر: توڑنا۔ یہ وحی دہریت روس پر ہوئی نازل کہ توڑ ڈال کلیسائیوں کے لات و منات! دہريت: خدا... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-156) (یورپ اور یہودی) Yorap Aur Yahood

یورپ اور یہود یہ عیش فراواں، یہ حکومت، یہ تجارت دل سینہ بے نور میں محروم تسلی تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھویں سے یہ وادی ایمن نہیں شایان تجلی ہے نزع کی حالت میں یہ تہذیب جواں مرگ شاید ہوں کلیسا کے یہودی متولی! متولي: نگران، انتظام کرنے والے۔ اس نظم میں اقبال نے... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-155) (مناصب) Manasib

مناصبہوا ہے بندئہ مومن فسونی افرنگ اسی سبب سے قلندر کی آنکھ ہے نم ناکترے بلند مناصب کی خیر ہو یارب کہ ان کے واسطے تو نے کیا خودی کو ہلاکمگر یہ بات چھپائے سے چھپ نہیں سکتی سمجھ گئی ہے اسے ہر طبیعت چالاکشریک حکم غلاموں کو کر نہیں سکتے خریدتے ہیں فقط ان کا جوہر ادراک! اس نظم... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-154) (خوشامد) Khushamad

خوشامد میں کار جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن ارباب نظر سے نہیں پوشیدہ کوئی راز کر تو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد دستور نیا، اور نئے دور کا آغاز معلوم نہیں، ہے یہ خوشامد کہ حقیقت کہہ دے کوئی الو کو اگر 'رات کا شہباز یہ نظم اقبال نے......... کے آخر میں لکھی تھی،... Continue Reading →

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑