(Zarb-e-Kaleem-153) (انقلاب) Inqilab

انقلاب نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و ساز حیات خودی کی موت ہے یہ، اور وہ ضمیر کی موت دلوں میں ولولہ انقلاب ہے پیدا قریب آگئی شاید جہان پیر کی موت! اس نظم میں اقبال نے یہ بتایا ہے کہ زندگی کا سوزوساز نہ ایشیا میں کہیں موجود ہے، نہ یورپ میں... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-152) (کارل مارکس کی آواز)

کارل مارکس کی آواز یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش نہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش مہرہ بازي: مہروں کا کھیل؛ مراد ہے عیاری، مکاری۔ تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر خطوط خم دار کی نمائش، مریز و کج... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-151) (اشتراکیت) Ishtarakiat

اشتراکیتقوموں کی روش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلومبے سود نہیں روس کی یہ گرمی رفتاراندیشہ ہوا شوخی افکار پہ مجبورفرسودہ طریقوں سے زمانہ ہوا بیزارانساں کی ہوس نے جنھیں رکھا تھا چھپا کرکھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اسرارقرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماںاللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردارجو حرف 'قل... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑