(Armaghan-e-Hijaz-33) (دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے) Digargoon Jahan Un Ke Zor-e-Amal Se

دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے دگرگوں جہاں ان کے زور عمل سے بڑے معرکے زندہ قوموں نے مارے دگرگوں: تبدیلی کی طرف گامزن۔ منجم کی تقویم فردا ہے باطل گرے آسماں سے پرانے ستارے منجم: ستاروں کا علم جاننے والا ۔ تقویم: ستاروں کے علم کی کتاب۔ ضمیر جہاں اس قدر آتشیں ہے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-32) (تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ) Tamam Arif-o-Aami Khudi Se Begana

تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ کوئی بتائے یہ مسجد ہے یا کہ میخانہ عارف: خدا کی پہچان کرنے والا۔ عامی: عام لوگ۔ یہ راز ہم سے چھپایا ہے میر واعظ نے کہ خود حرم ہے چراغ حرم کا پروانہ میر واعظ: بڑا وعظ کرنے والا۔ چراغ... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-31) (آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ) Azad Ki Rag Sakht Hai Manid Rag-e-Sang

آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ آزاد کی رگ سخت ہے مانند رگ سنگ محکوم کی رگ نرم ہے مانند رگ تاک محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید آزاد کا دل زندہ و پرسوز و طرب ناک طرب ناک: خوشی سے بھرا ہوا۔ آزاد کی دولت دل روشن، نفس گرم محکوم... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-30) (کھلا جب چمن میں کتب خانہ گل ) Khula Jab Chaman Mein Kutab Khana’ay Gul

کھل جب چمن میں کتب خانۂ گل کھل جب چمن میں کتب خانۂ گل نہ کام آیا مل کو علم کتابی کتب خانہء گل: باغ کو پھولوں کی کتابوں کے گھر سے تشبیح دی ہے۔ متانت شکن تھی ہوائے بہاراں غزل خواں ہوا پیرک اندرابی متانت: سنجیدگی۔ پیرک اندرابی: اندراب وسط ایشیا میں بلخ کے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-29) (سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر) Samajha Lahoo Ki Boond Agar Tu Isse Tou Khair

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر دل آدمی کا ہے فقط اک جذبۂ بلند گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند نقش بند: نقشہ بنانے والا۔ جس خاک کے ضمیر میں ہے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-28) (نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری) Nikl Kar Khanqahon Se Ada Ker Rasm-e-Shabiri

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری رسم شبیری: وہ رسم جو حضرت امام حسین (رضی اللہ) نے کربلا میں ادا کی۔ فقر خانقاہی: مراد ہے موجودہ پیری مریدی۔ فقط اندوہ و دلگیری: صرف رنج و ملال۔ ترے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-27) (رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات) Rindon Ko Bhi Maloom Hain Sufi Ke Kamalat

رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالت رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالت ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات خود گیری و خودداری و گلبانگ انا الحق آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات انا الحق: میں حق ہوں۔ گلبانگ: خوشگوار۔ سالک: تصوف کی راہ کی منزلیں۔ سالک:... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-26) (دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہین) Durraj Ki Parwaz Mein Hai Shaukat-e-Shaheen

دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں دراج کی پرواز میں ہے شوکت شاہیں حیرت میں ہے صیاد، یہ شاہیں ہے کہ دراج! دراج: تیتر۔ ہر قوم کے افکار میں پیدا ہے تلطم مشرق میں ہے فردائے قیامت کی نمود آج تلاطم: طغیانی۔ فردائے قیامت: کل آنے والی قیامت۔ نمود: ظہور۔ فطرت کے تقاضوں سے... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-25) (گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو) Garam Ho Jata Hai Jab Mehkoom Qaumon Ka Lahoo

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو پاک ہوتا ہے ظن و تخمیں سے انساں کا ضمیر کرتا ہے ہر راہ کو روشن چراغ آرزو ظن و تخمیں: شک اور اندازہ۔ چراغ آرزو: خواہش کا... Continue Reading →

(Armaghan-e-Hijaz-24)(آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر) Aaj Woh Kashmir Hai Mehkoom-o-Majboor-o-Faqeer

آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر ایران صغیر: چھوٹا ایران۔ سینۂ افلک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر کہہ رہا ہے داستاں بیدردی ایام کی کوہ... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑