(Bal-e-Jibril-170) (شاہین) Shaheen

شاہیں کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ نہ باد بہاری، نہ گلچیں، نہ بلبل نہ بیماری نغمہ عاشقانہ خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ ہوائے بیاباں... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-169) (فلسفی) Falsafi

فلسفی بلند بال تھا، لیکن نہ تھا جسور و غیور حکیم سر محبت سے بے نصیب رہا پھرا فضاوں میں کرگس اگرچہ شاہیں وار شکار زندہ کی لذت سے بے نصیب رہا بال: اونچا اڑنے والا۔ بلند جسور و غيور: جسارت والا ۔ کرگس: گدھ۔

(Bal-e-Jibril-168) (شیخ مکتب) Sheikh-e-Maktab

شیخ مکتب سے شیخ مکتب ہے اک عمارت گر جس کی صنعت ہے روح انسانی نکتہء دلپذیر تیرے لیے کہہ گیا ہے حکیم قاآنی پیش خورشید بر مکش دیوار خواہی ار صحن خانہ نورانی 'اگر تو اپنے گھر کا صحن روشن رکھنا چاہتا ہے تو ایسی دیوار نہ بنا جو سورج کی روشنی کو روک... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-167) (پرواز) Parwaz

پرواز کہا درخت نے اک روز مرغ صحرا سے ستم پہ غم کدئہ رنگ و بو کی ہے بنیاد خدا مجھے بھی اگر بال و پر عطا کرتا شگفتہ اور بھی ہوتا یہ عالم ایجاد دیا جواب اسے خوب مرغ صحرا نے غضب ہے، داد کو سمجھا ہوا ہے تو بیداد! جہاں میں لذت پرواز... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-166) (لہو) Lahoo

لہو اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس جسے ملا یہ متاع گراں بہا، اس کو نہ سیم و زر سے محبت ہے، نے غم افلاس

(Bal-e-Jibril-165) (ابلیس کی عرضداشت) Iblees Ki Arzdasht

ابلیس کی عرضداشت کہتا تھا عزازیل خداوند جہاں سے پرکالہء آتش ہوئی آدم کی کف خاک عزازيل: ابلیس کا اصلی نام۔ آتش : آگ کا ٹکڑا یعنی سخت فتنہ انگیز۔ پرکالہء جاں لاغر و تن فربہ و ملبوس بدن زیب دل نزع کی حالت میں، خرد پختہ و چالاک ناپاک جسے کہتی تھی مشرق کی... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-164) (خانقاہ) Khanqah

خانقاہ رمز و ایما اس زمانے کے لیے موزوں نہیں اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن قم باذن اللہ' کہہ سکتے تھے جو، رخصت ہوئے خانقاہوں میں مجاور رہ گئے یا گورکن قم باذن اللہ: اللہ کے حکم سے اٹھ۔

(Bal-e-Jibril-163) (جدائی) Judai

جدائی سورج بنتا ہے تار زر سے دنیا کے لیے ردائے نوری عالم ہے خموش و مست گویا ہر شے کو نصیب ہے حضوری دریا، کہسار، چاند تارے کیا جانیں فراق و ناصبوری شایاں ہے مجھے غم جدائی یہ خاک ہے محرم جدائی

(Bal-e-Jibril-162) (خودی) Khudi

خودی خودی کو نہ دے سیم و زر کے عوض نہیں شعلہ دیتے شرر کے عوض یہ کہتا ہے فردوسی دیدہ ور عجم جس کے سرمے سے روشن بصر ز بہر درم تند و بدخو مباش تو باید کہ باشی، درم گو مباش روپے پیسے کے لیے غصّے میں نہ آ اور اپنی عادت میں... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-161) (فقر) Faqr

فقر اک فقر سکھاتا ہے صےاد کو نخچیری اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہاں گیری اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری اک فقر ہے شبےری، اس فقر میں ہے میری میراث مسلمانی، سرمایہء شبیری

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑