Armaghan-e-Hijaz Urdu (ارمغان حجاز) The Gift of Hijaz-Book Complete

Armaghan-e-Hijaz Urdu (ارمغان حجاز) The Gift of Hijaz-Book Complete (Armaghan-e-Hijaz-01) (ابلیس کی مجلس شوری) Iblees Ki Majlis-e-Shura (Armaghan-e-Hijaz-02)(بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو ) Budhe Baloch Ki Nasihat Baite Ko (Armaghan-e-Hijaz-03) (تصویر و مصور) Tasveer-o-Musawwir (Armaghan-e-Hijaz-04) (عالم برزخ) Alam-e-Barzakh (Armaghan-e-Hijaz-05) (معزول شہنشاہ) Maazool Shahenshah (Armaghan-e-Hijaz-06) (دوزخی کی مناجات) Dozakhi Ki Munajat (Armaghan-e-Hijaz-07) (مسعود مرحوم) Masood... Continue Reading →

(Rumuz-e-Bekhudi-07) Hikayat-e-Sher-o-Shehanshah Alamgeer Ramatullah Alaih

حکایت شیر و شہنشاہ عالمگیر رحمةاﷲ علیہ (شہنشاہ عالمگیر (رحمتہ) اور شیر کی کہانی۔) شاہ عالمگیر گردون آستان اعتبار دودمان گورگان (آسمان مرتبت شہنشاہ عالمگیر جو خاندان تیمور کے لیے باعث فخر ہے۔) پایہ ی اسلامیان برتر ازو احترام شرع پیغمبر ازو (اس کی وجہ سے مسلمانوں کی توقیر بڑھی ؛ اس کے دور میں... Continue Reading →

(Bal-e-Jibril-106) (کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق) Kabhi Tanhai-e-Koh-o-Daman Ishq

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق کبھی سوز و سرور و انجمن عشق کبھی سرمایہ محراب و منبر کبھی مولا علی خیبر شکن عشق! از- علامہ محمد اقبال ؒ (کبھی پہاڑ کی تنہائی اور وادی میں عشق) (کبھی غم و خوشی اور مجلس میں عشق) (کبھی مومن کا قیمتی... Continue Reading →

Zarb-e-Kaleem (ضر ب کلیم) Book Complete (The Rod of Moses)

Zarb-e-Kaleem (ضر ب کلیم) مقدمہ (Muqadma) ضرب کلیم ١٩٣٦ء میں شائع ہوئی ہے، اس میں شعریت یا تغزل کم ہے. اور فلسفہ زیادہ ہے. بعض نظمیں اس مجموعہ میں اس قدر بلند پایہ ہیں کہ ان کی سرحد الہام سے ملی ہوئی معلوم ہوتی ہے. مختصر طور پر یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ضرب کلیم... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-205) (فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی) Fitrat Ke Maqasid Ki Karta Hai Nigahbani

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی دنیا میں محاسب ہے تہذیب فسوں گر کا ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی یہ حسن و لطافت کیوں ؟ وہ قوت و شوکت کیوں بلبل چمنستانی، شہباز بیابانی! اے شیخ ! بہت اچھی... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-204) (نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے) Nigah Woh Nahin Jo Surkh-o-Zard Pehchane

نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں اسی سرور... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-203) (یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے) Ye Nukta Khoob Kaha Sher Shah Suri Ne

یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے کہ امتیاز قبائل تمام تر خواری عزیز ہے انھیں نام وزیری و محسود ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری وزیری و محسود: دو افغان قبیلے جو آج کل سیکولر دنیا کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ہزار... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-202) (آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو) Aag Uss Ki Phoonk Deti Hai Barna-o-Peer Ko

آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو آگ اس کی پھونک دیتی ہے برنا و پیر کو لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحب یقیں برنا و پیر: جوان اور بوڑھے۔ ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں کوہ و دشت:... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-201) (قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی) Qaumon Ke Liye Mout Hai Markaz Se Judai

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی! جو فقر ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی اس دور میں بھی مرد خدا کو ہے میسر جو معجزہ پربت کو بنا سکتا... Continue Reading →

(Zarb-e-Kaleem-200) (آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد) Adam Ka Zameer Uss Ki Haqiqat Pe Hai Shahid

آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہد مشکل نہیں اے سالک رہ ! علم فقیری فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق پیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں حریری حریر: ریشم، مراد ہے نرمی۔ خود دار نہ ہو فقر تو ہے قہر الہی... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑