(Asrar-e-Khudi-09) (شعر کی حقیقت اور اسلامی ادبیات کی اصلاح کے بارے میں) Dar Haqiqat Shair Wa Islah-e-Adabiat-e-Islamia

در حقیقت شعر و اصلاح ادبیات اسلامیہ (شعر کی حقیقت اور اسلامی ادب کی اصلاح کے بیان میں۔) گرم خون انسان ز داغ آرزو آتش، این خاک از چراغ آرزو (آرزو کے داغ سے انسان کے اندر جوش پیدا ہوتا ہے؛ اس خاک (انسان) کی آگ آرزو سے روشن ہوتی ہے۔) از تمنا می بجام... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-08) (اس بیان میں کہ یونان کا فلسفی افلاطون جس کے افکار سے مسلم اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا، مسلک گوسفندی پر چلا ہے) Dar Ma’ani Aynke Aflatoon Yonani Ke Tasawwuf Wa Azbiyat…

در معنی اینکہ افلاطون در معنی اینکہ افلاطون یونانی کہ تصوف و ادبیات اقوام اسلامیہ از افکار او اثر عظیم پذیرفتہ بر مسلک گوسفندی رفتہ است و از  (اس مطلب کی وضاحت کے لیے کہ افلاطون جس کے افکار سے تصوّف اور مسلم اقوام کے ادب نے بہت اثر لیا ہے وہ مسلک گوسفندی کا... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-06) (اس بیان میں کہ جب خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہو جاتی ہے تو وہ نظام کائنات کی ظاہری اور خفیہ قوّتوں کو اپنے تصرف میں لیکر مطیع کر لیتی ہے) Dar Biyan Aynke Chun Khudi Az Ishq-o-Mohabbat Mohkam Mee-Garadd

در بیان اینکہ چون خودی در بیان اینکہ چون خودی از عشق و محبت محکم میگردد، قوای ظاہرہ و مخفیہ نظام عالم را مسخر می سازد (اس بیان میں کہ جب خودی عشق و محبت سے مستحکم ہو جاتی ہے تو وہ نظام عالم کی ظاہری اور مخفی قوّتوں کو مسخر کر لیتی ہے۔) از... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-05) (اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے) Dar Biyan Aynke Khudi Az Sawal Zaeef Mee Gardd

در بیان اینکہ خودی در بیان اینکہ خودی از سوال ضعیف میگردد (اس بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی میں کمزوری واقع ہوتی ہے۔) اے فراہم کردہ از شیران خراج گشتہ ئی روبہ مزاج از احتیاج (اے (مسلمان ) کبھی تو جو شیروں سے خراج وصول کرتا تھا؛ اب حاجتمندی کے باعث تیری طبیعت... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-04) (اس بیان میں کہ خودی عشق اور محبت سے مضبوط ہے) Dar Biyan Aynke Khudi Az Ishq Wa Mohabbat Istehkam Mee Pazeeradh

در بیان اینکہ خودی در بیان اینکہ خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد (اس بیان میں کہ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے۔) نقطۂ نوری کہ نام او خودی است زیر خاک ما شرار زندگی است (نقطہ ء نور جس کا نام خودی ہے ؛ یہی ہمارے بدن میں زندگی کا... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-03) (اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کو تخلیق اور پیدا کرنے میں ہے) Dar Biyan Aynkah Hayat-e-Khudi Az Takhleeq Wa Touleed Maqasid Ast

در بیان اینکہ حیات خودی دربیان اینکہ حیات خودی از تخلیق و تولیدمقاصداست (اس بیان میں کہ خودی کی زندگی مقاصد کی تخلیق و تولید سے ہے۔) زندگانے را بقا از مدعا ست کاروانش را درا از مدعا ست (زندگی کی بقا مقصد سے ہے ؛ مقصد ہی زندگی کے کاروان کے لیے (بانگ) درا... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-02) (اس بیان میں کہ دنیا کے انتظام کی بنیاد خودی پر ہے) Dar Biyan Aynke Asal Nizam-e-Alam Az Khudi Ast

در بیان اینکہ اصل نظام عالم (اس بیان میں کہ نظام کائنات کی بنیاد خودی ہے) در بیان اینکہ اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصاردارد (زندگی کا وجود خودی کے آثار (نشانات) میں سے ہے؛ جو کچھ تو دیکھتا ہے یہ خودی ہی کے اسرار (کا... Continue Reading →

(Asrar-e-Khudi-01) (اسرار خودی : تمہید) Asrar-e-Khudi : Tamheed

تمہید "نیست در خشک و تر بیشۂ من کوتاہی" "چوب ہر نخل کہ منبر نشود دارکنم" نظیری نیشابوری (میرے جنگل کے خشک و تر میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کار آمد نہ ہم؛ جس درخت کی لکڑی منبر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتی میں اس سے سولی بنا دیتا ہوں) (منبر پر سے وعظ... Continue Reading →

Asrar-e-Khudi (اسرارٍ خودی) Secrets of the Self Complete Book

(Asrar-e-Khudi-01) (اسرار خودی : تمہید) Asrar-e-Khudi : Tamheed (Asrar-e-Khudi-01) (مثنوی کے پہلے آڈیشن کا مقدمہ) Masnavi Ke Pehle Edition Ka Muqadma (Introductory Note By Iqbal) (Asrar-e-Khudi-01) (کلام اقبال کو کیسے سمجھا جائے) Kalam -e-Iqbal Ko Kaise Samajha Jaye? (Asrar-e-Khudi-01) (رومی اور تلاش انسان - کل شیخ چراغ لئے شہر میں گھوم رہا تھا) Rumi Aur... Continue Reading →

Zarb-e-Kaleem (ضر ب کلیم) Book Complete (The Rod of Moses)

Zarb-e-Kaleem (ضر ب کلیم) مقدمہ (Muqadma) ضرب کلیم ١٩٣٦ء میں شائع ہوئی ہے، اس میں شعریت یا تغزل کم ہے. اور فلسفہ زیادہ ہے. بعض نظمیں اس مجموعہ میں اس قدر بلند پایہ ہیں کہ ان کی سرحد الہام سے ملی ہوئی معلوم ہوتی ہے. مختصر طور پر یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ضرب کلیم... Continue Reading →

Blog at WordPress.com.

Up ↑